Global Editions

چپ ساز صنعت میں امریکی برتری دوبارہ قائم ہو سکے گی؟

امریکی سیمی کنڈیکٹر انڈسٹری اس وقت دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ سخت مسابقت کا شکار ہے تاہم امریکی حکومت کو امید ہے کہ ماہرین آئندہ برسوں میں اس صنعت پر امریکی برتری برقرار رکھنے کا راستہ تلاش کر لیں گے۔وائٹ ہاؤس کے مطابق اس وقت بھی اڑھائی لاکھ افراد اس شعبہ سے روزگار حاصل کر رہے ہیں اور اس وقت بھی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری ملک کی مینوفیکچرنگ کے شعبہ میں تیسری بڑی انڈسٹری ہے۔ انٹل اس وقت بھی دنیا کا سب سے بڑا چپ ساز ادارہ ہے تاہم اس کو اب شدید مقابلے کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس صنعت کو زوال کے دو اسباب ہیں ایک تو یہ کہ انٹل اور اے ایم ڈی جیسے ادارے موبائل چپ سازی کے میدان میں حصہ نہیں لے سکے اور انہوں نے اس میدان کو بالکل ہی خالی چھوڑ دیا اس کی وجہ سے اے آر ایم جیسے اداروں کو کھلا میدان ملا اور انہوں کم توانائی خرچ کرنے والی چپ تیار کرکے موبائل انڈسٹری میں نمایاں مقام حاصل کر لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ دوسری وجہ یہ ہے کہ بہت سے ادارے جن میں ایپل بھی شامل ہے چپ سازی کے لئے امریکی ادارے جن میں گلوبل فاؤنڈریز شامل ہے کی مدد لیتی ہیں تاہم ان کے ہارڈوئیر بیرون ممالک میں تیار کئے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس میدان میں چین ایک بڑے خطرے کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔ چین سیمی کنڈکٹرز کے میدان میں ایک سو بلین ڈالرز پمپ کر رہا ہے تاکہ اس کی جانب سے تیار کئے جانیوالے سیمی کنڈکٹرز مارکیٹ میں کم قیمت پر دستیاب ہو سکیں اس کے علاوہ مور کا قانون بھی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کے لئے دردسر بنا ہوا ہے۔ اب امریکی حکومت کی جانب سے اس صورتحال سے عہدہ برا ہونے کے لئے ماہرین کے ایک پینل کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو مختلف اداروں جن میں انٹل، کوالکوم اور مائیکروسافٹ شامل ہیں کے ساتھ اس معاملے پر تبادلہ خیال کریگا اور اس صورتحال سے باہر نکلنے کے لئے تجاویز حاصل کریگا۔ وائٹ ہاؤس کے ڈائریکٹر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پالیسی جان ہولڈرین (Jhon Holdren) کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ماہرین کا یہ گروپ ملک کی سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کو درپیش چیلنجز کے حل اور دنیا بھر میں اس میدان میں امریکی برتری کو برقرار رکھنے کے لئے راہیں تجویز کریگا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اب امریکہ اس میدان میں اپنی برتری کو برقرار رکھنے کے لئے نئی حکمت عملی وضع کریگا۔ نئی جیومیٹریز تیار کی جائیں گی اور اس کے ساتھ ساتھ نئی آپٹیکل کمپیوٹر اپروچ تیار کی جائیگی تاکہ مستقبل کے لئے بہترین اور مخصوص چپس تیار کی جا سکیں اور اس مقصد کے لئے بھاری سرمایہ کاری کی جائے۔ اس میں سے کچھ سرمایہ کاری نجی شعبہ کی جانب سے کی جائے گی جیسا کہ حال ہی میں سام سنگ کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ امریکی ریاست آسٹن اور ٹیکساس میں ایک بلین ڈالرز کی لاگت سے سیمی کنڈکٹرز کی تیاری کے لئے نئے پلانٹ نصب کریگی تاہم اس میں سرمایہ کاری کا بڑا حصہ حکومتی شعبہ کی جانب سے ہی آئیگا۔

تحریر: جیمی کونڈیلفی (Jamie Condliffe)

Read in English

Authors

*

Top