Global Editions

مصنوعی ذہانت سے خوف۔۔۔۔

ٹیکنالوجسٹ کو اس خوف سے پیچھا چھڑا لینا چاہئے کہ سکائی نیٹ کی طرح مصنوعی ذہانت دنیا میں سب کچھ تباہ کردے گی کیونکہ مصنوعی ذہانت مستقبل قریب میں سب کچھ بدل دے گی ۔ مصنوعی ذہانت کے بارے میں پھیلنے والے یہ خدشات بہت کمزور ہیں کہ یہ سکائی نیٹ فلم کی طرح انسان کو غلام بنا لے گی یا اسے مٹا دے گی ۔ حال ہی میں مصنوعی ذہانت کے بارے میں سٹینفورڈ یونیورسٹی کی ایک رپورٹ میں شائع ہوئی جس میں آئی ٹی ، کمپیوٹر سائنس اور روبوٹکس کے شعبوں میں قیادت کرنے والے 20نمایاں ماہرین نے رائے دی۔ اس رپورٹ میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت نے روزگار اور تعلیم سے لے کر ذرائع آمدورفت اور تفریحات جیسے روزمرہ زندگی کے بہت سے پہلوئوں کو ختم کردیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا کیا گیا تجزیہ قابل ذکر ہے کیونکہ حکومتوں کو اس سے مصنوعی ذہانت کے حوالے سے عوامی تشویش کا نوٹس لے کر پالیسی بنانے میں مدد ملے گی۔ رپورٹ میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ 2030ء تک خودکار ٹرک، اُڑنے والی گاڑیاں اور ذاتی روبوٹس عام جگہوں پر نظر آنے شروع ہو جائیں گے۔ تاہم رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ تکنیکی رکاوٹیں مصنوعی ذہانت کو محدود کردیں گی۔ رپورٹ میںاس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی ترقی سے سماجی اور اخلاقی سطح پر نئے مسائل پیدا ہورہے ہیں جن میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے بعض شعبوں میں بڑھنے والی بےروزگاری کے مسائل اور ذاتی ڈیٹا پر سرکاری نگرانی کے خدشات شامل ہیں۔ ان مسائل پر کھلے عام بحث و مباحثہ کا آغاز ہونا چاہئے ۔ رپورٹ میں مصنوعی ذہانت میں گزشتہ سو سالوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا اور نشاندہی کی گئی کہ کوئی مشین طویل مدتی مقاصد کے تحت تیار نہیں کی گئ اور نہ ہی مستقبل میں ایسی مشین بننے کا امکان ہے۔ سیٹل میں مصنوعی ذہانت کے خودمختار انسٹیٹیوٹ کے سی ای او اورن ایٹزیونی (Oren Etzioni)کہتے ہیں کہ میں اسے زندگی میں آنے والے ایک امکان یا لمحے کے طور پر دیکھتا ہوں۔ میرے خیال میں مصنوعی ذہانت کی مبالغہ آمیز تشہیر غلط ہے۔ رپورٹ میں مستقبل میں مصنوعی ذہانت کے سب سے زیادہ ترقی پانے والے خوش کن شعبوں کی بھی نشاندہی کی گئی۔ اورن ایٹزیونی کہتے ہیں کہ اس میں سے اہم ترین شعبہ انسانوں اور مصنوعی ذہانت کا باہم تعاون ہے۔ سٹینفورڈ کی مصنوعی ذہانت پر سو سالہ تجزیاتی رپورٹ پانچ سال بعد شائع ہو گی جس میں ذرائع آمدورفت، تعلیم اور روزگار سے متعلق اعدادوشمار پرتوجہ دی جائے گی۔

تحریر: وِل نائیٹ (Will Knight)

Read in English

Authors

*

Top